گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، بھارتی معیشت کو امریکی ٹیرف کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جبکہ صنعتی پیداوار میں حوصلہ افزا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی ٹیرف کا بھارتی برآمدات پر اثر
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ نے بھارتی معیشت، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور گارمنٹ انڈسٹری کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ ٹیرف، جو 27 اگست 2025 سے نافذ العمل ہوئے ہیں، دنیا بھر میں سب سے بلند شرح ہیں۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (FIEO) کے مطابق، تروپور، نوئیڈا اور سورت جیسے بڑے پیداواری مراکز میں درجنوں کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے، جس سے ہزاروں مزدور بے روزگاری کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے علاوہ، جھینگے، زیورات، قالین اور فرنیچر جیسے شعبے بھی اس جھٹکے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو کے مطابق، صرف ان شعبوں میں برآمدات کا حجم 70 فیصد تک گر سکتا ہے، اور امریکہ کو ہونے والی کل برآمدات میں 43 فیصد کمی کا اندیشہ ہے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیرف روس-یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے، کیونکہ امریکہ نے ہندوستان پر روسی تیل درآمد کر کے روس کو مالی فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ بھارتی وزارت تجارت نے امریکی ٹیرف کو "غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر مناسب" قرار دیا ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، فوری ریلیف کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) میں انڈیا اور ایمرجنگ ایشیا اکنامکس کے سربراہ رچرڈ روسو نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے تعزیری اقدامات سے ہندوستان کی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا بلکہ یہ ہندوستان کے لیے گھریلو اصلاحات کو تیز کرنے اور برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے کا ایک منفرد موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
صنعتی پیداوار اور دیگر اقتصادی اشارے
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بہتر کارکردگی کی بدولت بھارت کی صنعتی پیداوار (IIP) جولائی میں چار ماہ کی بلند ترین سطح 3.5 فیصد پر پہنچ گئی۔ تاہم، کان کنی اور بجلی کے شعبوں کی کارکردگی قدرے کم رہی۔ گھریلو بچتوں میں میوچل فنڈز کا حصہ ایک دہائی میں چھ گنا بڑھ گیا ہے، جو مالی شمولیت، کم شرح سود اور اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹیرف کے اثرات کے پیش نظر، کچھ عالمی مالیاتی اداروں نے بھارت کے جی ڈی پی کی پیشن گوئیوں میں کمی کی ہے؛ مثال کے طور پر، نومورا نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنے جی ڈی پی کی پیشن گوئی کو 5.8 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ڈیوٹی فری کپاس کی درآمدات کو تین ماہ کے لیے 31 دسمبر تک بڑھا دیا ہے تاکہ برآمدات کو فروغ دیا جا سکے اور بھارتی ٹیکسٹائل کو مزید مسابقتی بنایا جا سکے۔